4 جنوری 2013 - 20:30

ايران نے روہنگيا کہلائے جانے والے ميانمار کے مسلمانوں کي صورتحال اور امداد کي فراہمي کے طريقہ کار کا جائزہ لينے کے لئے اپنا ايک وفد ميانمار بھيجنے کا فيصلہ کيا ہے۔

ابنا: ايران کے ايک پارليماني وفد ميانمار کے ستم رسيدہ مسلمانوں کي صورتحال کا جائزہ لينے کے لئے بہت جلد اس ملک کا دورہ  اور امداد رساني کي صورتحال کا جائزہ لے گا- وزارت خارجہ کے ذرائع نے ہمارے نمائندے کو بتايا ہے کہ قومي سلامتي اور خارجہ امور سے متعلق پارليماني کميٹي کے نائب سربراہ منصور حقيقت پور کي قيادت ميں  ميانمار جانے والے پارلیمانی وفد ميں امام خميني ريلف کميٹي  اور ايران کي انجمن ہلال احمر کے نمائندے بھي شامل ہونگے- توقع ہے کہ ايران کا يہ پارليماني وفد نو جنوري کو ميانمار کے لئے روانہ ہوگا اور انپے دو روزہ قيام کے دوران حکومت ميانمار اور مسلم آبادي کے نمائندوں سے بات چيت کرے گا-  ايران ميانمار کے ستم رسيد مسلمانوں کے لئے انسان دوستانہ امداد کي ايک کھيپ پہلے ہي روانہ کرچکا ہے اور دوسري امدادي کھيپ آئندہ چند روز ميں روانہ کي جانے والي ہے۔تقریبا آٹھ لاکھ روہنگيا مسلمان ميانمار کي شہريت سے محروم ہيں اور انہيں حکومت  اور مقامي آبادي کي جانب سے مسلسل تعصب کا نشانہ بنايا جارہا ہے- شہري حقوق سے محروم روہنگيا مسلمانوں کو تشدد، جبري بے دخلي اور  دوسر مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔پچيس دسمبر کو اقوام متحدہ کي جنرل اسمبلي نے ايک قرار داد کے ذريعے ميانمار کے مسلمانوں کے قتل عام پر گہري تشويش کا اظہار کيا تھا- اس قرار داد ميں ميانمار کي حکومت سے کہا گيا تھا کہ وہ مسلم آبادي کے تعلق سے انساني حقوق کي تحفظ کرے  جس ميں شہريت کا معاملہ بھي شامل ہے۔اقوام متحدہ کي قرار داد ميں کہا گيا تھا کہ ميانمار ميں انساني حقوق اور آزادي جيسے بنياد حقوق کو منظم شکل ميں پامال کيا جارہا ہے۔واضح رہے کہ انتہا پسند بدھسٹوں کے حملے ميں جنہيں فوج اور سيکورٹي اداروں کي حمايت حاصل ہے سيکڑوں کي تعداد مين مسلمان جانبحق اور ہزاروں کي تعداد ميں بے گھر ہوچکے ہيں۔قتل عام کے يہ واقعات ميانمار کے صوبے راخين ميں  پيش آئے ہيں جہان مسلمانوں کي اکثريت انتہائي کم ترين شہري اور انساني سہولتوں کے ساتھ زندگي گزار رہي ہے۔مسلم آبادي کے خلاف انتہا پسند بدھسٹوں کے وحشيانہ حملوں کي وجہ سے ہزاروں کي تعداد ميں مسلمان بنگلاديش اور ہندوستان اور ديگر ہسمايہ ملکوں ميں پناہ لينے پر مجبور ہوگئے ہيں جبکہ انکي بہت بڑي تعداد اجازت نہ ملنے کي وجہ سے ملائشيا، انڈونيشيا اور تھائي لينڈ کے درميان واقع سمندروں ميں بھٹک رہے ہيں۔

.......

/169